ابنا: شریکۃ الحسین سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے شام دمشق کے یزیدی درباروں اور بازاروں میں یادگار خطبے دیئے۔ شام کے زندان کو اپنے مظلوم بھائی کے عزاخانے میں تبدیل کر دیا اور اس طرح ستمکاروں کے محل لرزنے لگے۔ ابن زیاد ملعون اس باطل خیال میں تھا کہ ایک خاتون اس قدر مصائب اور رنج و آلام دیکھ کر ایک جابر ستمگر کے سامنے جواب دینے کی سکت و جرأت نہیں رکھتی، کہنے لگا، اُس خدا کا شکرگزار ہوں جس نے تم لوگوں کو رسوا کیا، تمہارے مردوں کو مار ڈالا اور تمہاری باتوں کو جھوٹا ثابت کیا ’’علی کی بیٹی نے کمال عظمت کے ساتھ اس سرکش طاغوت کی طرف حقارت بھری نظروں سے دیکھا اور فرمایا یابن مرجانہ۔۔(یاد رہے کہ ابن زیاد لعین کی ماں مرجانہ اس وقت عرب کی زانی خواتین میں مشہور تھی اور یہ بھی مشہور تھا کہ ابن زیاد حرام زادہ ہے) تعریفیں اُس خدا کیلئے ہیں جس نے ہمیں اپنے پیغمبر (ص) کے ساتھ منسوب کرکے عزت بخشی آلودگی و ناپاکی سے دور رکھا اور تجھ جیسے ویران گر شخص کو رسوا کر دیا۔چہلم امام حسین (ع) کی اہمیت تحریر و ترتیب: ایس ایچ بنگش
اس سال اگر ایک طرف چوبیس دسمبر کو بیس صفر المظفر یعنی چہلم کا دن ہے تو ساتھ ہی پچیس دسمبر حضرت عیسی علیہ السلام کی یاد بھی ہے۔ اس حوالے سے اگر ایک طرف یورپی ممالک بالخصوص لندن کے درودیوار پر امام حسین اور حضرت عیسی علیہ السلام کی یاد پر مبنی بل بورڈز آوایزاں ہیں جس کی تصاویر یہاں ای میل میں منسلک ہیں تو دوسری طرف چہلم یا اربعین کے دنیا بھر سے زائرین کا سمندر اور ملین مارچ کربلا کی طرف رواں دواں ہے۔ نواسہ رسول (ص) محسن انسانیت امام حسین (ع) اور حضرت عیسی (ع) دونوں کا مقصد توحید کی بقا اور دنیا میں انسانی اقدار امن و امان اور آزادی کا فروغ تھا، یہی وجہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا پیغام بغیر کسی تفریق کے دنیا بھر کے تمام انسانوں اور آزادی کی تحریکوں کے لئے مشعل راہ ہے، جس کا ذکر نیلسن منڈیلا نے بھی واشگاف الفاظ میں کیا۔
نیلسن منڈیلا کے لئے کربلا و امام حسین آئیڈیل:افریقہ کو آزادی، حریت کا درس دینے والے اور نسلی امتیاز کا خاتمہ کرنے والے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا نے اپنی کامیابی کا سہرا امام حسین (ع) اور کربلا کو آئیڈیل قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ "جب جیل میں میری اسیری بیس سال سے زائد ہوئی تو ایک رات میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ کل صبح حکومت کی تمام تر شرائط مان کر دستخط کرکے تسلیم ہو جاؤں، لیکن اچانک اسی رات مجھے واقعہ کربلا اور امام حسین (ع) کی یاد نے ہمت باندھی کہ جب امام حسین (ع) نے کربلا میں نامناسب حالات کے باوجود ظلم و یزیدیت کی بیعت نہیں کی تو میں نیلسن منڈیلا کیوں ظلم کے آگے تسلیم ہو جاؤں اسلئے میری کامیابی کا راز کربلا اور امام حسین کو آئیڈیل قرار دینے میں ہے۔۔
امام حسین علیہ السلام کے انقلاب کی تازگی کا اثر دیکھئے کہ کربلا و عراق سے عراقی عوام کی مزاحمت کی وجہ سے اِس زمانے کا یزید امریکہ بھاگنے پر مجبور ہو کر شکست سے دوچار ہوا۔ اور کربلا میں روضہ حسین (ع) کی طرف ہر سال چہلم کے حوالے سے کئی ملین زائرین کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس بات کا عہد کرتا نظر آتا ہے کہ ہم ہر زمانے کے یزید کےخلاف لڑتے رہیں گے۔ عراق پر جب یزید وقت امریکہ نے اپنے ہی پالے ہوئے پٹھو صدام کی حکومت کے خاتمے اور کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے چڑھائی کرکے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ ڈالے تو دوسری طرف عراقی عوام نے اس دور کے یزید امریکہ کے سامنے جھکنے کی بجائے امام حیسن علیہ السلام کی عزاداری اور ماتم کی طاقت و فلسفے سے ظلم و یزیدیت کے خلاف آواز اٹھا کر آخرکار امریکہ کو عراق چھوڑنے پر مجبور کیا۔ عراق میں عاشورا اور چہلم کے موقع پر لاکھوں حتی کہ چہلم و اربعین شہدائے کربلا کے موقع پر ایک کروڑ سے زیادہ پاپیادہ عزاداروں کا کربلا کی طرف مارچ و عزاداری اور لبیک یا حسین، حسینت زندہ باد و یذیدیت مردہ باد کے نعروں نے وہاں ڈیوٹی پر مقیم امریکی فوجیوں کے نفسیات پر اثر ڈالا اور یوں امریکی افواج میں امریکی حکومت کے خلاف بغاوت پیدا ہونے کے ڈر سے امریکہ عراق سے دم بھگا کر بھاگ گیا، یقینا امریکہ کا عراق سے بھاگ جانا ٹام جیسے سینکڑوں فوجیوں کی نفسیات پر اثر اور ان کے دل میں عزاداری و ماتم امام حسین کی وجہ سے جنگ مخالف جذبات پیدا ہوئے، ٹام کا خط 2003ء میں مختلف میڈیا ذرائع و اخبارات بشمول پاکستان کے روزنامہ ڈان کے سنڈے ایڈیشن میں بھی شائع ہوا۔ جس کے ایک پیراگراف کا ترجمہ و تفصیل قارئین کے لئے دی جا رہی ہے۔
ٹام لکھتے ہیں۔۔"میری ماں، میں آپ کا بیٹا ٹام ہوں، اور یہ کربلا شہر کے ایک بیرک یا مورچے میں میری ڈیوٹی کا تیسرا دن ہے۔ یہاں ایک مقدس مقام زیارت کی طرف لوگ جا رہے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ مقدس مقام یا زیارت ان کے نبی (حضرت محمد ص) کے نواسے کی اس قربانی کی یاد میں بنایا گیا ہے کہ آپ (امام حسین ع) نے اپنے خاندان کے تمام مرد بشمول چھ ماہ کے شیر خوار کو اللہ کی راہ میں قربان کیا۔ ماں، میں بھی بوسٹن امریکہ سے بہت دور اس صحرا میں آیا ہوں، لیکن میں جانتا ہوں کہ میں یہاں اللہ کی رضا کے لئے نہیں آیا بلکہ میں اور میرے دوسرے ساتھی (امریکی فوجی) ہم سب یہاں اسلئے ہیں کہ ہمارے صدر (امریکی صدر) نے ہمیں یہاں مامور کیا ہے۔"
ٹام کے اس خط سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح عراق سے امریکہ کی ذلالت بھری شکست میں سید الشہداء کی ذات اور عزاداری نے اہم کردار ادا کیا کیونکہ عراق میں سینکڑوں امریکی فوجی نفسیاتی و ذہنی مریض بن گئے تھے۔ دوسری طرف مشرق وسطٰی میں حزب اللہ اور انقلاب اسلامی نے سیرت امام حسین (ع) کے فلسفے پر عمل پیرا ہو کر یزیدیت کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال یزید وقت امریکہ کی سربراہی میں دنیا بھر کی باطل قوتوں حتٰی کہ اوائل اسلام اور پھر دور یزید ملعون کی طرح خواراج و یزیدی قوتوں، آج کی القاعدہ و طالبان نے امریکی امامت میں دمشق میں اسرائیل مخالف شام حکومت کے خلاف بغاوت کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ شریکۃ الحسین بی بی زینب سلام اللہ علیہا کےدمشق میں واقع مزار کی بےحرمتی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن یہ یزیدی قوتیں دربار یزید لعین میں بی بی زینب (س) کا تاریخی خطبہ بھول گئے ہیں جس کا ذکر ذیل میں آئے گا کہ اے یزید لعین یعنی ہر دور کے یزید تم جتنی بھی کوشش کرو ہماری "اہلبیت محمد و آل محمد (ص) کی یاد تم دلوں سے نہیں نکال سکتے۔۔ ۔۔انشاءاللہ عراق کی طرح دمشق و سریہ سے بھی یزید وقت امریکہ اور خواراج و یزیدی قوتوں کا امریکی امامت میں اسرائیل مخالف شام حکومت کے خلاف بغاوت اور نام نہاد جہاد ناکام و نامراد ہو گا۔
جس طرح روز عاشوارا میدان کربلا میں امام حسین اور آپ کے باوفا جانثاروں نے قربانیاں دے کر اسلام کو تاابد زندہ و جاوید کرکے محرم و عاشورا کو امر کر دیا۔ اسی طرح چہلم یا صفر المظفر کے مہینہ میں خانوادہ اہلبیت علیہم السلام کی پاک و مطہر بیبیوں کا دین حق کی خاطر قربانیاں دینا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ امام خمینی فرماتے ہیں کہ محرم اور صفر ہی نے اسلام کو زندہ رکھا ہے۔ جب کہ حکیم الامت علامہ اقبال جو بہترین کربلا شناس تھے، وہ تحریک کربلا کو دو ابواب میں تقسیم کرکے یزیدیت کی نابودی اور حسینت کی فتح کو امام حسین علیہ السلام و شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ سے منسوب کرکے فرماتے ہیں کہ
حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشقیک حسین (ع) رقم کرد و دیگر زینب (س)
بچوں اور جوانوں کی طرح کربلا میں خواتین کا بھی کردار رہا ہے لیکن سب سے اہم کردار خواتین ہی کا ہے کیونکہ حسین و اصحاب حسین علیہ السلام کو شہید کرنے کے بعد یزید لعین و بنی امیہ نے اپنے اجداد کے راستے پر چلتے ہوئے اتنا منفی پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ نعوذ باللہ امام حسین باغی تھے اور خلیفہ وقت یزید ملعون کے خلاف بغاوت کی تھی۔۔لیکن یہ امام حسین علیہ السلام کی شیردل بہن سیدہ زینب سلام اللہ علیہا جسے شریکۃ الحسین بھی کہا جاتا ہے کا بحثیت سالار قافلہ اسیران کربلا کردار ہی تھا کہ شریکۃ الحسین سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے دیگر مخدارات عصمت و طہارت اور بچوں سمیت کربلا سے کوفہ و شام کے بازاروں و زندانوں میں علی علیہ السلام کے لہجے میں خطبے سنا کر اور بازاروں میں ماتم حسین علیہ السلام برپا کرکے جلوس و عزاداری اور ظالموں کےخلاف احتجاج کی بنیاد ڈالی۔ یزید ملعون اور بنی امیہ کے منفی پروپیگنڈے کو خاک میں ملا دیا۔ اس سلسلے میں دربار ابن زیاد و یزید لعین دمشق میں شریکۃ الحسین سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے خطبوں نے یزیدیت کو تاقیامت رسوا و بےنقاب کرکے لعنت کا حقدار ٹہرایا۔۔ یہی وجہ ہے کہ حکیم الامت علامہ اقبال جو بہترین کربلا شناس تھے وہ تحریک کربلا کو دو ابواب میں تقسیم کرکے یزیدیت کی نابودی اور حسینت کی فتح قرار دیتے ہیں، علامہ اقبال کے اس شعر کا ترجمہ و تفسیر اگر کرنا چاہیں تو معروف دانشور علی شریعتی کی زبان میں اس طرح کیا جا سکتا ہے۔۔کہ جو شہید ہو چکے انہوں نے حسینی کام انجام دیا جو زندہ ہے انہیں زینبی کام انجام دینا چاہیے، جو نہ حسینی کام انجام دے اور نہ ہی زینبی کام، وہ یزیدی ہے۔
یہاں شام و کوفہ کے بازاروں میں بی بی زینب (س) کے خطبات سے چند اقتباسات دئیے جا رہے ہیں ،جس سے میدان کربلا میں خواتین کا کردار واضح تر ہو جائے گا۔ شریکۃ الحسین سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے شام دمشق کے یزیدی درباروں اور بازاروں میں یادگار خطبے دیئے۔شام کے زندان کو اپنے مظلوم بھائی کے عزاخانے میں تبدیل کر دیا اور اس طرح ستمکاروں کے محل لرزنے لگے۔ ابن زیاد ملعون اس باطل خیال میں تھا کہ ایک خاتون اس قدر مصائب اور رنج و آلام دیکھ کر ایک جابر ستمگر کے سامنے جواب دینے کی سکت و جرأت نہیں رکھتی، کہنے لگا، اُس خدا کا شکرگزار ہوں جس نے تم لوگوں کو رسوا کیا، تمہارے مردوں کو مار ڈالا اور تمہاری باتوں کو جھوٹا ثابت کیا ’’علی کیبیٹی نے کمال عظمت کے ساتھ اس سرکش طاغوت کی طرف حقارت بھری نظروں سے دیکھا اور فرمایا یابن مرجانہ۔۔(یاد رہے کہ ابن زیاد لعین کی ماں مرجانہ اس وقت عرب کی زانی خواتین میں مشہور تھی اور یہ بھی مشہور تھا کہ ابن زیاد حرام زادہ ہے) تعریفیں اُس خدا کیلئے ہیں جس نے ہمیں اپنے پیغمبر (ص) کے ساتھ منسوب کرکے عزت بخشی آلودگی و ناپاکی سے دور رکھا اور تجھ جیسے ویران گر شخص کو رسوا کر دیا۔
دربار یزید لعین دمشق میں ،حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا تاریخی خطبہ:زینب (س) اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء (س) کی طرح ظالموں کے سامنے آواز بلند کرکے صدائے احتجاج بلند کرتی ہیں، بھرے دربار میں خدا کی حمد و ستائش کرتی ہیں اور رسول (ص) و آل رسول (علیہ السلام) پر درود بھیجتی ہیں اور پھر قرآن کی آيات سے اپنے خطبہ کا اس طرح آغاز کرتی ہیں: "یزید تو یہ سمجھتا تھا کہ تونے زمین و آسمان